Home » انسانی نفسیات کے متعلق اسلامی تعلیمات کا امتیاز
مغربی علم نفسیات سےتقابل

انسانی نفسیات کے متعلق اسلامی تعلیمات کا امتیاز

علم نفسیات میں مغربی اور اسلامی نکتہ ہائے نظرکا فرق:

علم نفسیات انسانی رویہ اور برتاؤکے بارے  میں ایسا مطالعہ پیش کرتا ہے جس  کے جاننے سے اس علم کے ماہرین ایک نفسیاتی مریض کو جو کئی طرح کی ذہنی پریشانیوں اور پیچیدگیوں   کا شکارہے، اورجن کے باعث اخلاقی اور جسمانی طور پر اپنی صحت اورتوازن کھو چکا ہوتا ہے ، وہ اسے نارمل لائف کی جانب لانے میں مدد بہم پہنچاتے ہیں۔

اس کے برعکس اسلام اپنی روح پرور تعلیمات کی روشنی میں نفس انسانی کا ایسا  کتھارسیس اور تزکیہ کرتا ہے ، جس کے بعد وہ مادی وبھیمی خواہشات اور ملذات ، اور سفلی جذبات و خیالات سے بالاتر ہو کر ایسی ملکوتی صفت سے بہرہ ور ہو جاتا ہے جس سے ایک طرف وہ فطری ،سادہ   اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے لگتا ہے ، جو اس کو دوسروں کی نظر میں محترم ، ہر دلعزیز اور باوقار بناتی ہے ۔اور دوسری طرف  اس کی اپنے خدا سے محبت اوروابستگی کو بھی  گہرا اوریقینی بناتی ہے۔

مشترکات

دونوں میں تعمیر شخصیت  (Personality  Development)ہے۔

دونوں باطنی علاج کے طریقہ ہیں۔

دونوںمیں عقلی اپروچ پائی جاتی ہے،

امتیازات

علم نفسیات میں ایک متوازن (Balanced) اور نارمل لائف کے حصول پر فوکس کیا جاتا ہے۔اوراسلام میں اس کے ساتھ ایک اعلی مقصد یعنی خدا کی محبت اور معرفت  کے حصول کو مطمح نظر بنایا جاتا ہے، جس کا ذریعہ ایک فطری، متوازن و مستقیم  طرز زندگی ہی ہے۔

علم نفسیات میں عقلی ،منطقی اور نفسیاتی تھیراپیز کے طریقہ علاج کو اپنایا جاتا ہے۔جبکہ اسلام میں عقلی تشفی کے ساتھ ساتھ قلبی وروحانی تسکین  کے ہر دو طریقہ ہائے علاج کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔

مولانا ابو الکلام آزادکے مطابق:

ہستی کائنات کا مطالعہ کیا جائے تو ایک خاص بات ابھر کرہمارے سامنے آتی ہے  کہ یہاں فطرت کا نظام کچھ اس طرح کا واقع ہوا ہے کہ جب تک اسے اس کی سطح سے بلندتر سطح پر جا کر نہ دیکھا جائے اس کی حقیقت نہیں کھل سکتی۔ بالفاظ دیگرفطرت کے ہر نظم کو دیکھنے کے لئے ہمیں ایک بلند تر جگہ پر واقع مقام نظر پیداکرنا پڑتاہے۔ عالم طبیعات کے پیچیدہ اسرار، علم حیاتیات میں کھلتے ہیں، علم حیاتیات کے غوامض ، عالمِ نفسیات میں واضح ہوتے ہیں، اورنفسیاتی قضایاکے لئے ہمیں منطقی بحث وتحلیل کے عالم میں آنا پڑتا ہے، لیکن منطقی تجزیہ وتحلیل کے معموں کو کس مقام سے دیکھا جائے ؟  ،،، یہاںہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اس سے اوپربھی ایک مقام نظر ہے لیکن عقلی نظر وتعلیل اس سےفروتر ہےکہ اس کی نقش آرائی کرسکے ،، وہ ایک ایسی آگ ہے جو دیکھی نہیں جا سکتی البتہ اس کی تپش سے ہاتھ تاپ لئے جا سکتے ہیں  ،،،  یہ حقیقت ہے کہ یہ راہ محض استدلالی ذریعہء علم سے طے نہیں کی جاسکتی ، یہاں کی اصل روشنی مشاہدہ وکشف کی روشنی ہے۔”

خلاصہ

نفسیات چونکہ ایک مغربی علم ہے، اس لئے اس میں میٹرلسٹک اپروچ پائی جاتی ہے، اور نفس پر روح کی تاثیرات کو در خور اعتناء نہیں جانا جاتا۔جبکہ جدید تحقیقات میں نفس پر شعور کے ساتھ ساتھ قلب وروح کی تاثیرات اب ایسی چیزیں ہو گئی ہیں جن کے ماہرین معترف ہو رہے ہیں، اور پیرا سائکالوجی کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ اور اب وہ روحانی علاج کو ایک قوی طریقہء علاج قرار دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ویسٹ سے لوگوں کا ہندؤوں کے آشرموں میں آنا، بدھ مت کی طرف متوجہ ہونا، یوگا سیکھنا دیکھنے میں آ رہا ہے۔لیکن اصل شفاء انہیں عالمگیر اورفطری مذہب، مذہب اسلام میں ہی ملے گی۔تاہم جس طرح علم طب میں روحانی علاج بھی ہے، اور مادی بھی جس کی شریعت نفی نہیں کرتی ایسے ہی نفسیات میں مسلم ماہرین  کو نفس کے رویے سے متعلق جدید تحقیقات وتجربات سے بھی استفادہ کرنا چاہئے۔ علم نفسیات بھی جدید سائنس کا ایک شعبہ ہے، جس طرح سائنس کے دیگر شعبوں سے آپ طوعا وکرھا مستفید ہو رہے ہیں، اسی طرح یہاں بھی ہوناچاہئے۔

 مزید پڑھئے: اسلامی علم نفس کا طرہءامتیاز۔            کردار سازی کی تکمیل ایک تقابلی جائزہ۔          رجائیت پسندی (آپٹیمزم) کیا ،کیوں اورکیسے؟

 

2 Comments

Click here to post a comment

  • مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم اور مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم کی عبارتوں میں ربط واضح نہیں کیا ؛ بلکہ قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سمجھ لے؛

  • اگر آپ توجہ فرمائیں تو پہلے اقتباس کے بعد اور دوسرے اقتباس سے پہلے جو تحریر کیا گیا ہے وہ اس ربط کو واضح کر رہا ہے۔